Thursday, September 19, 2024

ग़जल पापूलर मेरठी वारिस टुडे

niveen Krishna giri aur popular meeruthi

ایپلوز ادب مشاعرہ پاپولر میرٹھی

اپلاز ادب تاریخ ساز مشاعرہ 
کالم : فرحت عباس شاہ 
  بہت سے لوگ اگرچہ ابھی بھی یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ ہمارے ہاں موسیقی اور شاعری کو ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت برباد کرنے کی کوش کی جا ریی ہے۔ البتہ جو لوگ تاریخی ادراک کے ساتھ بدلتے ہوۓ حالات اور قدروں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ، ان کے لیے پردوں کے پیچھے پینپتی " حکمت ِ عملیوں "کو جان لینا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ آج سے تقریبا" تیس سال پہلے دبئی کے صحراؤں کو مشاعروں کے تہذیبی چشموں ، اور  روشنیوں سے آباد کیا گیا۔ مشاعرے کے آرگنائزرز میں پہلا بین الاقوامی نام سلیم جعفری کا گونجا جو تاریخ کا حصہ بن گیا۔ سلیم جعفری ایک نہایت حسین اور صاحب جمال انسان تھے۔ مشاعروں کی نظامت وہ خود  کیا کرتے تھے ان کی گفتگو اتنی نپی تلی اور شعری اختصار سے معمور ہوا کرتی تھی کہ جیسے شعر کی طرح دریا کو کوزے میں بند کردیا گیا ہوے ۔ وہ شاعر اور سامعین کےدرمیان زیادہ دیر حائل رہنے کو نظامت کا عیب اور کمزوری سمجھتے تھے ۔  وہ بولتے تو لگتا جگجیت نے غزل چھیڑ دی ہے ۔ وہ سینئر لیکن مستند شعراء کے علاوہ نئے شعراء کی تلاش میں رہا کرتے اور انہیں سامنے لانے کا فرض پورا کرنے کی خوشی حاصل کرتے۔ ان کے ناگہاں انتقال کے بعد اگرچہ ان کے نقش قدم پر چلنے والے کئی آرگنائزرز نے مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں لیکن بدقسمتی سے یا تو تسلسل جاری نہ رکھ سکے یا پھر معیار برقرار رکھنے سے قاصر رہے اور پھر اچانک ہی اچانک چاروں طرف  کمرشل مشاعروں کی وباء پھیل گئی جس میں  اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ نہ تو کوئی معیاری شاعر شامل کیا جائے اور نہ ہی معیاری شعر سامعین تک پہنچے بلکہ اس کی جگہ سستے ، ولگر اور چوری شدہ کلیشے اشعار اور جنسیاتی موضوعات اور سطحی جذباتی مضوعات کی بھونڈی شاعری کرنے والے شعراء کو نوجوان نسل کا ہیرو بنا کر پیش کیا جاۓ ۔ اس قماش کے مشاعروں کو رواج دینے والے کماؤ دھی پتروں کی خوداعتمادی کا یہ عالم ہے کہ وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے یہ کہتے پاۓ جاتے ہیں کہ جناب لوگ تو سُننا ہی یہ کچرا چاہتے ہیں ۔ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کا اصول ادب عالیہ پر فٹ کرنے والے سستی کمرشل ذہنیت کے حامل افراد نے صرف ذاتی مفاد کے لالچ میں نہ صرف اردو زبان و ادب کو نقصان پہنچایا بلکہ یہ ظالم نوجوان نسل کی معصومیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوۓ ان کے ذہنوں کو ولگر شاعری سے آلودہ کرنے کی کوشش میں مسلسل مشغول نظر آتے ہیں ۔ 
لیکن نظام قدرت اور فطرت  کا بھی ایک اپنا انداز ہے جو سچائی کو کسی بھی صورت مٹنے نہیں دیتی ۔   اللہ بھلا کر عماد المک جیسے ویژنری اردو زبان و ادب کے عاشق کا جنہوں نے آخر کار صورت حال کے تجزیہ و  تحقیق کے بعد اردو زبان و ادب کے وارث ہونے کا فرض ادا کرتے ہوۓ اپلاز ادب کی بنیاد رکھی ۔  گزشتہ سات ستمبر کے پہلے ہفتے میں اپلاز ادب کا تیسرا سالانہ مشاعرہ ہوا جس میں شعراء کے انتخاب سے لیکر دیگر تہذیبی عوامل کا خاص خیال رکھا گیا ۔ مشاعرے کی صدارت پاکستان کے ممتاز شاعر انور شعور نے کی جبکہ شعراء میں منظر بھوپالی ، اقبال اشعر ، راجیش ریڈی ، طارق قمر ، ندیم بھابھہ ، ظہیر مشتاق ، محشر آفریدی ، فوزیہ رباب ، پاپولر میرٹھی اور راقم الحروف شامل تھے ۔ نظامت کے فرائض منصور عثمانی اور ترنم احمد نے ادا کیے ۔ 
تمام شعراۓ کرام نے اس درجہ خوبصورت کلام پڑھا کہ یہ تخصیص ہی باقی نہ رہی کہ کس کو کس سے اچھا اور کس کو کس سے ہلکا کہا جاۓ ۔ البتہ راجیش ریڈی ، ندیم بھابھہ اور اقبال اشعر کو سامعین نے کھڑے ہو ہو کر داد دی ۔ پاپولر میرٹھی اپنے مزاحیہ کلام کی نفاست اور مقصدیت سے بھرے تخلیقی طنز و مزاح کے باعث سامعین کا دل موہ لینے میں کامیاب رہے ۔ ظہیر مشتاق نے دبئی کی طرف سے میزبان شاعر کے طور پر سب سے پہلے اپنی نہایت عمدہ شاعری سے مشاعرے کا باوقار آغاز کیا ۔ مشاعرے کو تاریخ ساز قرار دلوانے میں جہاں شاعروں کا انتخاب ایک وجہ بنا تو دوسری وجہ عمادالمک ، محمد مدثر ، مشتاق احمد ، سید مسعود نقوی اور تابش زیدی سمیت تمام آرگنائزنگ کمیٹی کی دن رات کی محنت بھی رنگ لائی۔  مشاعرے میں پاکستان پیپلز پارٹی گلف کے چئیرمین سفیر محبت میاں منیر ہنس ، خاقان صاحب ، سید اعجاز شاہین اور بے مثال نوجوان صوفی شاعر عاطف رئیس کی شرکت کی برکتیں بھی شامل تھیں ۔ 
تاریخ ساز اپلاز ادب مشاعرے نے جہاں کمرشلزم کے مارے ہوے آرگنائزرز اور ٹک ٹاک شاعروں کے پیدا کیے ہوۓ اس تاثر کو زائل کیا کہ  چھچھورے اور ولگر شاعروں کو بلانا  اس لیے مجبوری ہے کہ لوگ  سننا ہی ان کو چاہتے ہیں وہاں اس پراپیگنڈے کو بھی ہوا میں اڑا کے دھول کردیا کہ اچھی شاعری سننے والے سامعین باقی نہیں رہ گئے ۔ مشاعرہ پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے خوبصورت آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا جو رات آٹھ بجے سے لیکر رات دو بجے تک اعلیٰ ذوق سامعین کرام سے بھرا رہا۔ اس مشاعرے میں اپلاز ادب نے کتاب کی توقیر و  ترقی کی ایک بے مثال روایت کا آغاز کیا اور راقم الحروف کے مقبول عام شعری مجموعے ، " شام کے بعد " کو ہندی سکرپٹ  دیوناگری میں دلی سے شائع کروایا اور   مشاعرے سے پہلے اس کی  مکھ وکھالی کی رسم ادا کی گئی ۔ کتاب کے ٹائٹل کی نقاب کشائی پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے درویش صفت صدر ڈاکٹر فیصل سے کروائی گئی ۔ خیر اور سچائی کے کام جب خلوص ِ نیت سے کیے جائیں تو تائید ِ ایزدی ساتھ شامل ہوجاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مشاعرے کے تاریخ ساز ہونے اور اس تہذیبی روایت کی ازسر نو بازیافت نے ایک دفعہ ہر زبان سے یہ ادا کروا دیا کہ لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ِ ایام تو ۔

Wednesday, March 13, 2024

دیا ہے کسی نے یہ جھٹکا کسی سے کچھ نہیں کہت




                     غزل
دیا ہے کسی نے یہ جھٹکا کسی سے  کچھ نہیں کہتے
 کہاں لا    کر   ہمیں  پٹکا کسی سے کچھ نہیں کہتے

اکیلا    چھوڑ    کر    چھمو کو  باہر  جا نہیں  سکتے
 لگا رہتاہے اک کھٹکا  کسی   سے  کچھ   نہیں   کہتے

 توے سا رنگ ہے  موٹی ہے  آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہیں

  کہاں جاکر   یہ   دل اٹکا  کسی سے کچھ نہیں کہتے

  گلے میں    جم  گیا تھا     تھوک۔   اس نے جب ہمیں ڈانٹا 

بڑی مشکل سے ہے سٹکا کسی سے کچھ نہیں کہتے

 سبھی کے  ہاتھ۔  کے    پتھر ہمارے   سر  کی جانب ہیں

 سمجھتے ہیں اسے  مٹکا   کسی سے   کچھ نہیں    کہتے

 حسینہ کی گرفتاری   میں گم   ہیں آج تک یارو

 وہ تھا کس شوخ کا لٹکا کسی سے کچھ نہیں کہتے

بجے ہیں   سات  ابھی    تو  شام کے اپنی پڑوسن کے

 ابھی سے چھاج کیوں پھٹکا کسی سے کچھ نہیں کہتے

 وہ     ہم۔   سے   راستے میں پوچھتا ہے کب ملو گے  تم

  تمباکو   ہم۔  نے  جب   غٹکا کسی سے کچھ نہیں کہتے

                          ‌‌۔ ‌     غزل۔             


وہ    کہہ    رہے   ہیں  ذرا   ہم   سدھر  کے دیکھتے ہیں 

تو ہم بھی نقل چلو انکی کر کے دیکھتے ہیں

  جب  آئینے  میں وہ خود کو سنور کے دیکھتے ہیں

   سہم  سہم  کے  انھیں لوگ گھر کے   دیکھتے  ہیں

   ہم اسکی پیٹھ پہ جب ہاتھ دھر کے دیکھتے ہیں 

ہمیں تو چاند ستارے بھی ڈر کے دیکھتے ہی

نہ جانے کون سی شے ان میں اب بھی باقی ہے

کہ چوہے روز انہیں کو کتر کے دیکھتے ہیں


ہماری     حد     سے      زیادہ   ہے     آن کی    گولائی 

کبھی جو جسم کو ہاتھوں میں بھر کے دیکھتے ہیں 

 سنا۔  ہے   بچوں   کو   نیندوں  میں  خوف  آتا ‌  ہے


 کہ     والدین     اگر    آنکھ۔  بھر   کے  دیکھتے ہیں


 سنا       ہے      ایسے     سبھی  اسپتال   جاتے ہیں


جو   لوگ   اسکی   گلی   سے  گزر کے  دیکھتے ہیں


سنا     ہے    رنگ    تووں    سے   چرا   کے   لایا  ہے


ہم  اس کے  ہاتھوں میں  آینہ دھر  کے دیکھتے ہیں


یہ  کون   کشتیاں     بھارت   میں    لڑنے   آیا  ہے

کہ    لوگ    راہ  میں  اسکو  ٹھہر کے دیکھتے ہیں


ہم۔    اسکی    یاد  میں   ہر  چیز بھول جاتے  ہیں

ہر۔  ایک۔  کام   کو    دوبارہ    کر کے  دیکھتے ہیں

سنا ہے چور لفنگے ادھر نہیں جاتے

گلی میں اسکی سو ہم بھی ٹھہر کے دیکھتے ہیں


 ہم اسکی پیٹھ پہ جب ہاتھ دھر کے دیکھتے ہیں

ہمیں تو چاند ستارے بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

یہ    اسکے   سینے    پہ   تربوز   رکھ دیا  کس نے

کہ بار  بار    ندیدے     نظر  کے    دیکھتے     ہیں

کسی  کو  حسن  سے مارا  کسی  کو جلوؤں  سے

تمام    زاویے       ان    کے     ہنر کے  دیکھتے ہیں

سنا    ہے     ناک  ہے   اسکی  بڑے  پکوڑے  سی
بھکاری  منہ میں  اسے  لار بھر کے دیکھتے ہیں

سنا   ہے   مکھیوں  کو  عشق  ہے بہت اس سے

مٹھائی   والے  اسی  کو  ٹھہر کے دیکھتے ہیں

Sunday, February 25, 2024

mushaira DCN

https://www.youtube.com/live/JTLSAAlKNDQ?si=NrR3rREiHg7Awl8K